جمعرات، 17 ستمبر 2026 اردو ادب کا معیاری پلیٹ فارم
اہلِ قلم
صفحۂ اول کالم شاعری ناول افسانہ مضامین ادبی شخصیات
مزید
میری لائبریری ہمارے بارے میں رابطہ لکھاری بنیں
→ واپس شاعری
غزل

وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب

وسیم بریلوی
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیاہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا
جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تکتمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا
نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرحہمیں یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا
وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سببمجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا
وسیمؔ دیکھنا مڑ مڑ کے وہ اسی کی طرفکسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا

تبصرے (0)

جواب برائے: