تواتر کو جی جان سے لگاتے لگاتے امت کے ایک تواتر بھرے یقین کو بنا دلیل ہی ٹھکرا دیا ۔ غامدی صاحب نے اس تمام معاملے کا انکار اس بنا پر کیا کہ "ان کی فہم" کے مطابق یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے ۔اور دل چسپ امر یہ ہے کہ ڈیڑھ ہزار برس سے تمام کی تمام امت " تواتر سے " اس موقف کی حامل رہی اور کسی کو یہ خلاف قرآن نہ محسوس ہوئی ۔۔۔
محدثین جب کسی حدیث کو رد کرتے تھے تو اپنی ذاتی عقل و فہم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بناء پر رد کرتے رہے ۔۔۔جب کہ یہاں بنا اصول کے رد کیا جا رہا ہے ۔
غامدی صاحب نے فرمایا کہ "غار حرا میں آپ نے کوئی علم حاصل نہیں کیا ۔۔۔"
کبھی احادیث کی کتب میں گہری نظر تو کیجئے ۔کہیں دعوی نہیں کیا گیا کہ آپ نے غار حرا میں کوئی علم حاصل کیا تھا یا علم حاصل کرنے گئے تھے ۔بلکہ حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے آنے سے پہلے یوں ہونا شروع ہوا کہ آپ جو خواب دیکھتے وہ اسی صورت میں پورا ہو جاتا ۔ رات خواب دیکھتے ، صبح خواب مجسم ہوا ہوتا ، آپ گھبرا سے گئے ۔یہ شے آپ کے لئے حیران کن رہی ہو گی اور مسلسل ایسا ہونے کے سبب آپ تنہائی پسند ہو گئے ۔آپ غار حرا چلے جاتے تو دیر تک تفکر کرتے ، تنہائی آپ کو سکون دیتی ۔یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جو قرآن کے خلاف ہو یا عقل کے منافی ، بلکہ ہم کہیں گے کہ آپ کی طبعیت کا تنہائی کی طرف میلان بھی یقینا الله کا انتظام تھا کہ اب کے نبی آخر نے آنا تھا سو اہتمام بھی کچھ الگ سے مطلوب تھا۔اور خود غامدی صاحب نے اقرار کیا کہ جبرائیل پورے وجود اور عظیم ہیئت کے ساتھ سامنے آ موجود تھے ۔صاف ظاہر ہے کہ یہ مکالمہ ، اور وجود آشنائی شہر سے باہر دور تنہائی میں ہی ممکن تھی ۔ خود جبرائیل کا پورے وجود سے آنا غار حرا کو ثابت کر رہا ہے ۔
پھر آپ نے دعوی کیا کہ غار حرا محض فسانہ ہے کہ جو بعد میں صوفیوں نے شامل دین کر دیا ۔۔۔
دیکھئے محترم ! ہم ہی نہیں لیکن لوگ بھی گمان رکھتے ہیں کہ آپ صاحب مطالعہ ہیں ، کیوں ان کے گمان کو بدگمان کرتے ہیں ۔آپ کو نہیں معلوم کہ سیدہ عائشہ رضی الله عنہ کی بیان کردہ یہ روایت قدیم ترین کتب احادیث میں بھی موجود ہے اور جب کی موجود ہے کہ جب تصوف نامی کوئی نظریہ موجود ہی نہ تھا اور نہ صوفی موجود تھے ۔ سیدھا سیدھا قرآن و حدیث لوگوں کے بیچ میں بنا کسی ملاوٹ کے قائم و دائم تھا ۔
اور ایک اہم بات یہ کہ حدیث سیدہ عائشہ سے روایت ہے اس سے آگے جن افراد نے ان سے روایت کی تو دوسرے لفظوں میں آپ ان پر الزام لگا رہے کہ وہ صاحبانِ دیانت نہ تھے ، جھوٹ گھڑتے اور رسول کے نام کر دیتے ۔ اس اولین وحی کی مشہور ترین روایت کے جتنے راوی ہیں سب ہی اس دعوے کے بعد شک کی تلوار سے کٹ جائیں گے ۔ اس حدیث کی سند یوں ہے کہ حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال: اخبرنا مالك ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ام المؤمنين رضي الله عنها
یعنی سیدہ عائشہ اور امام بخاری کے درمیان چار راوی ہیں اب بقول آپ کے گھڑی گئی ہے تو ان چاروں میں سے کسی نے گھڑی ہو گی ۔۔۔اگر آپ کے ترازو کو پکڑا جائے تو سب سے پہلے امام بخآری گئے ۔۔ اور ساری بخاری گئی اور پھر دیگر تینوں بھی ۔۔۔جو معتبر ترین راوی ہیں ۔
دیکھئے ! بزرگ وار ، جناب غامدی صاحب ۔۔۔بات سمجھئے ، آپ نے یہ الفاظ بول کے ایک حدیث نہیں بلکہ ہر ہر حدیث کا انکار کر دیا ۔۔ممکن ہے آپ اسے محض الزام تراشی قرار دیں۔لیکن آپ کے الفاظ ہیں کہ صوفیوں نے یہ اختراع کی ۔۔۔دوسرے لفظوں میں ان راویوں نے رسول پر جھوٹ باندھا ۔۔۔۔غامدی صاحب خدا را دیانت کو ہاتھ میں تھام کے بولئے کہ جس جس راوی نے آپ کی نظر میں یہ جھوٹ گھڑا ہے کیا اس کی دوسری کسی بھی حدیث کو معتبر جانا جا سکتا ہے ؟
جبکہ مجھے یقین ہے کہ انہی راویوں کی احادیث کو کبھی کبھی آپ مطلب براری کے لئے استعمال بھی کرتے ہوں گے ۔۔۔حیرت ناک امر نہیں کہ تب یہی راوی آپ کی نظر میں معتبر ٹھہرتے ہیں
تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا ، سحر آہن بنا لیا
جبکہ محدثین کی نظر میں جس نے زندگی میں۔ معمولی سا جھوٹ بولا وہ روایت حدیث کے لئے ہمیشہ کے لئے نااہل ہو گیا ۔۔۔اور آپ رسول پر جھوٹ ( آپ کی نظر میں ) کو بھی صبح رد کرتے ہیں ، شام قبول کرتے ہیں۔