🌹جبرائیل آتے ہیں 🌹
اس روز بھی آپ غار حرا میں موجود تھے کہ نگاہ اٹھائی تو سامنے وہی ناموس موسیٰ تھے ۔ انجیل کی کتاب اعمال میں لکھا ہے کہ موسی علیہ السلام جب چالیس برس کے ہوئے تو ان کو نبوت ملی تھی اور ہمارے حضور بھی چالیس برس کے تھے کہ جبرائیل آئے ۔
جبرائیل آئے اور کہا :
اِقْرَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو پڑھنا نہیں جانتا ۔ اس پر جبرائیل نے آپ کو پکڑا اور زور سے بھینچا اور پھر چھوڑ دیا اور کہا :
"اِقْرَاْ " ۔۔۔۔۔ پڑھیے آپ نے پھر جواب میں کہا:
"میں تو پڑھنا ہی نہیں جانتا" ۔
اس پر جبرائیل نے آپ کو تیسری بار پھر سے جیسے جکڑ لیا ، زور سے بھینچا اور پھر چھوڑ دیا اور کہا :
" اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ (1) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْـرَمُ (3) اَلَّذِىْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5) "
اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔انسان کو خون بستہ سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔جس نے قلم سے سکھایا۔ انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔
یہ آسمان سے آخری رسول پر اترنے والی پہلی وحی تھی ۔ جبرائیل کا زمین کی سمت وحی لے کے آنے کے آخری سفر کا آغاز تھا ، یہی ہمارے حضور پر وحی کے نزول کے آغاز کا پہلا روز تھا اور یہی وحی کے ہمیشہ کے لیے اختتام کا آغاز تھا ، وہ اختتام کہ جب رسول ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو بی بی فاطمہ نے دکھ سے کہا تھا کہ :
" بابا آپ کے جانے کا بھی غم ہے اور یہ بھی غم ہے کہ اب جبرائیل کس پر آئے گا ؟"
جبرائیل غار سے رخصت ہوئے اور حضور ﷺ گھبرائے ، بے چین گھر کو لوٹے ۔ سیدہ خدیجہ پھر بروئے کار آئیں ، آپ بے اختیار کہہ رہے تھے :
" زملونی زملونی "
" مجھ پر کمبل اڑا دو ، مجھے پر کمبل اوڑھا دو "
آپ پر بی بی نے کمبل ڈالا ، کچھ دیر گزری طبیعت پر سکینت طاری ہوئی ، کچھ حواس سنبھلے اور آپ نے سیدہ خدیجہ کو تمام تر ماجرا جو بیتا تھا وہ کہہ سنایا ۔ آپ کہہ رہے تھے
" لقد خشیت علی نفسی "
"جانے مجھے کیا ہو گیا ہے ، مجھے تو اب اپنی جان جانے کا خوف ہے "
اس پر سیدہ خدیجہ نے کہا :
" ہرگز نہیں واللہ کبھی بھی آپ کو اللہ تعالی رسوا نہ کرے گا کہ
" تحمل الکل "
کہ آپ تو اغیار تک کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، ان کو اتنا دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل سے بے غم ہو جاتے ہیں ۔
" تکسب المعدوم"
آپ ناداروں ، فقیروں اور تنگ دستوں کو دوسروں سے مستغنی کر دیتے ہیں ۔
" تقری الضعیف"
مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں ،
" تعین علی نوائب الحق "
ہائے بی بی نے کیا کہا تھا ، ہمارے حضور نبوت سے پہلے ہی کتنے دیالو تھے ۔ بی بی نے کہا ۔۔۔تعین علی نوائب الحق۔۔۔ آپ مصیبت زدہ لوگوں کو یوں دیتے ہیں کہ آزردہ احوال ناداروں کو آسودہ حال کر دیتے ہیں۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جب کسی نے مانگا آپ نے اس کو انکار نہیں کیا ، حتی کہ ایک آدمی نے بکریوں سے بھری وادی کا سوال کیا تو آپﷺ نے اسے وہ بھی دے دی۔ آپ ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ اپنے تن پر موجود قمیض بھی اتار کر دے دی۔
رسول اللہ ﷺ کی طبعیت سیدہ خدیجہ کی ان محبت بھری باتوں سے سنبھلی تو سیدہ خدیجہ نے آپ کو ساتھ لیا اور اپنے عزیز ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ وہی ورقہ کہ جن کو کچھ عرصہ پہلے بی بی نے آپ کا خواب سنایا تھا ، جب غار حرا جیسا واقعہ خواب میں بھی پیش آیا تھا تو اس پر ورقہ نے کہا تھا :
" یہ وہی ناموس ہے جو ناموسِ موسیٰ تھا "
وہ تو خواب کے بات تھی سو خواب ہوئی ۔غالب نے کہا تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا.
لیکن آج سود و زیاں کے سب جھگڑے ختم ہوئے کہ آج خواب کا قصہ حقیقت ہو گیا ۔ خدیجہ نے غار میں گزرے قصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، ذرا اپنے برادر زادے کی بات تو سنیے گا ۔ آپ کی زبان سے ورقہ نے جب سارا قصہ سنا تو پھر سے کہنے لگا :
"یہ وہی ناموس ہے جو سیدنا موسی پر نازل ہوا تھا"
امام ابنِ کثیر کہتے ہیں: دیکھیے ورقہ بن نوفل خود تلاش حق کے سفر میں بت پرستی ترک کر کے عیسائیت اختیار کر چکے تھے اور دیکھا جائے تو یہی راستی تھی کہ جس کو انہوں نے پایا ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس واقعے کی تعبیر میں سیدنا عیسی علیہ السلام کا نام نہ لیا بلکہ یہ کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر نازل ہوا تھا ۔ حالانکہ عیسی علیہ السلام متاخر تھے موسی پہلے کے گزر چکے تھے لیکن سبب یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام کی شریعت کوئی نئی شریعت نہ تھی بلکہ موسی علیہ السلام کی شریعت کی تکمیل ہی تھی ۔ اس کے بعد ورقہ نے کہا :
"یا لیتنی !
اے کاش میں آپ کے دور نبوت میں جوان ہوتا ، ایمان و علم و عمل میرے ہم راہ ہوتے ، میں ان سے سرفراز ہوتا ، کاش میں تب حیات ہوتا کہ جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی ۔ کاش میں آپ کی نصرت کرتا اور آپ کے ہمراہ ہوتا "
اس پر رسول ﷺ نے حیرت سے تڑپ کے پوچھا :
" کیا وہ مجھے مکہ سے نکال دیں گے؟"
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
اس مکہ سے جہاں کی گلیوں نے بھی رسول سے پیار کیا ، جب آپ یتیم پیدا ہوئے تووالد پہلے سے رخصت ہو چکے تھے تب صرف خاندان والوں نہیں بلکہ سارے مکے والوں نے آپ کو سینے سے لگایا ، آنکھوں میں بسایا کہ یہ ہمارا یتیم بھتیجا ہے پھر اعلیٰ سیرت کے سبب بھری نوجوانی میں بھی آپ کا اکرام کیا ۔ آپ نے پیچھے پڑھا کہ کس طرح حلف الفضول میں جب بڑے بڑے سردار معاہدے میں موجود تھے تو آپ صرف چوبیس برس کے ہونے کے باوجود اس معاہدے کا حصہ تھے ۔ سو ان محبتوں کی بارشوں کے بعد یہ سننا کہ " مکے والے آپ کو نکال دیں گے" تو تڑپ کے پوچھا:
" کیا یہ مجھے مکہ سے نکال دیں گے ؟"
ورقہ نے کہا جی ہاں حضور آپ نکالے جائیں گے ۔ آپ وہی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ جیسی شریعت جو بھی لایا اس سے دشمنی کی گئی ۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا تو آپ کی مدد کرتا ۔اور پھر یہی ہوا اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ورقہ فوت ہو گئے اور یہ الفاظ اس بات کی دلیل تھے کہ ورقہ کا دل مسلمان تھا دل مومن تھا یہی سبب ہے
مسند احمد میں سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ نے نبی اکرم سے پوچھا تھا کہ ورقہ کا کیا ہوا تو آپ نے فرمایا :
" میں نے انہیں دیکھا کہ ان کا لباس سفید ہے میرا گمان ہے کہ اگر وہ جہنم میں ہوتے تو ان کا لباس سفید نہ ہوتا"
اسی طرح مسند ابی یعلی میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
"میں نے اسے دیکھا ہے اس کا لباس سفید ہے اور وہ جنت کے وسط میں ہے"
صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔
→ واپس صفحۂ اول
تحریر
تاریخ · قسط 12
تاریخ · قسط 11
مضمون · تاریخ
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۳

← گزشتہ تحریر
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۲
اگلی تحریر →
غار حرا ۔۔۔ ورقہ بن نوفل اور غامدی صاحب کا انکار
متعلقہ تحریریں
تحریر
غار حرا ۔۔۔ ورقہ بن نوفل اور غامدی صاحب کا انکار
تواتر کو جی جان سے لگاتے لگاتے امت کے ایک تواتر بھرے یقین کو بنا دلیل ہی ٹھکرا دیا ۔ غامدی صاحب نے اس تمام معاملے کا انکار اس بنا پر کیا کہ "ان کی فہم" کے مطابق…
ابوبکر قدوسی
28
تاریخ · قسط 12
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۲
بعثت سے کچھ پہلے ۔۔۔دوم پے در پے کچھ اجنبی اجنبی سے واقعات تو جیسے اب معمول ہو گئے ، انتہائی بچپن میں حلیمہ سعدیہ کے ہاں قیام کے دوران واقعہ شق الصدر ، ابو طالب…
ابوبکر قدوسی
22
تاریخ · قسط 11
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۱
بعثت نبوی سے کچھ پہلے ۔۔۔اول۔۔۔۔۔ رحمت کی برسات ہونے سے پہلے ٹھنڈی مہربان پُرْوا یوں چلنا شروع ہوئی کہ روح تک میں سکینت اتر آئی ۔ اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہ…
ابوبکر قدوسی
21

تبصرے (0)
پہلا تبصرہ آپ کیجیے۔