بعثت سے کچھ پہلے ۔۔۔دوم
پے در پے کچھ اجنبی اجنبی سے واقعات تو جیسے اب معمول ہو گئے ، انتہائی بچپن میں حلیمہ سعدیہ کے ہاں قیام کے دوران واقعہ شق الصدر ، ابو طالب کے ساتھ سفر شام میں اور سیدہ خدیجہ کے غلام میسرہ کے ساتھ سفر تجارت میں راہبوں کی باتیں ، اور پتھروں تک کا سلام کرنا ، کچھ اجنبی روشنیوں اور آوازوں کا آنا سب کچھ بہت عجیب تھا ۔ خود رسولِ مکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بتلاتے ہیں کہ:
" میں اس پتھر کو ابھی تک پہچانتا ہوں کہ جو مجھے سلام کیا کرتا "
صحیح مسلم کی ایک روایت میں بھی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إني لأعرف حجرا بمكة كان يسلم علي قبل أن أبعث إني لأعرفه الآن»
میں ایک پتھر کو جانتاہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھ کو سلام کرتا تھا میں اس وقت بھی اسے پہچانتا ہوں
[صحيح مسلم 3/ 1782]
اس طرح بہت سے واقعات آج بھی اذہان کو متشکک کرتے ہیں اور انسان کا فوری عمل بسا اوقات انکار کا ہوتا ہے لیکن اس سوال کا کیا جواب کہ :
" کیا آسمانوں والا رب اس کی قدرت نہیں رکھتا ؟"
یقیناً انکار ممکن نہیں ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرنے کی بات ہے کہ جو پتھروں کا خالق ہے وہ پتھروں کو گویائی بھی دے سکتا کہ وہ قران میں کہتا ہے کہ ہر شے تسبیح کرتی ہے لیکن کیسے اس کو وہی جانتا ہے ۔
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّۗ وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰـكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْۗ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا۔۔۔۔ الاسراء آية ۴۴
اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے
۔ ۔۔۔۔۔
اور خرق عادت واقعات کہتے ہی ان کو ہیں کہ جو عام معمول سے ہٹے ہوں ۔ سو جب کچھ معمول سے ہٹا جھٹ اس کا انکار کیا ، تو جان لیجئے انکار کی کوئی حد نہیں تاآنکہ خدا کا انکار کر دیا جائے ۔
سو بعثت سے ہہلے مسلسل ایسے واقعات پیش آ رہے تھے کہ جو آج دیکھا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ آخری پیام بر کی آمد سے پہلے کی تیاری تھی ۔
رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے
رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی
خود رسول کے لیے بھی اور اہل عرب کے لیے بھی کہ وہ عظیم خبر آنے پر حیرت سے انکار نہ کر بیٹھتے یا یوں کہہ لیجئے کہ انہیں ایک معمول سے بہت ہٹے عظیم واقعے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۔
جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو
رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو
یا فیض کے الفاظ میں
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا ! آج ذکر یار چلے
امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں یہ روایت لائے ہیں کہ :
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں :
" ایک دن سیدنا عمر ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا تو سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: یہ شخص اپنے دین جاہلیت پر ہے یا زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے یا پھر میرا گمان غلط ہے۔
اس شخص کو میرے پاس لاؤ! اسے بلایا گیا تو آپ نے اس کے سامنے اپنی بات دہرائی۔ اس پر وہ کچھ الجھا کہ مسلمان ہوتے ہوئے اس سے ایسا سوال کیوں کیا گیا لیکن سیدنا عمر ؓ نے کچھ اصرار کرتے ہوئے فرمایا:
تجھے لازم ہے کہ مجھے صحیح صورتِ حال سے آگاہ کرو۔
آخر اس نے اقرار کیا کہ میں زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن تھا۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا کہ تیرے پاس تیرے جنات جو خبریں لاتے تھے ان میں سے حیران کن اور عجیب تر خبر سناؤ۔ اس پر اس نے کہا:
میں ایک روز بازار میں تھا کہ ایک جِنیہ میرے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور اس نے کہا:
کیا تم نے جنات کی مایوسیوں کو نہیں دیکھا کہ کیسے وہ شکست خوردہ ہوئے پڑے ہیں کہ اپنی اونٹنیوں کے پالانوں سے چمٹے پڑے ہیں ۔۔۔
اس پر سیدنا عمر فاروق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان کہ
ہاں یہ سچ کہتا ہے ، ایک روز میں مشرکین کے ایک بت کے پاس سویا ہوا تھا کہ ایک شخص بچھڑا لے کر آیا اور وہاں ذبح کیا تو جیسے ایک تیز تر چیخ بلند ہوئی کہ کبھی نہ سنی ہو اور اس نے چیختے ہوئے کہا ایک بات کہ جسے اک فصیح و خوش بیان کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔۔ اس نے دوبارہ جب یونہی کہا تو سب لوگ چونکے اور خوفزدہ ہو بھاگے ، لیکن میں وہاں ٹہرا رہا کہ حقیقت جانے بنا ادھر سے نہ جاؤں گا ۔۔اور کچھ وقت گزرا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ یہ نبی کریم و مکرم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں۔ ( مخلص)۔( بخاری 3866 )
امام احمد روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ سے پریشانی کے عالم میں کہا :
" میں ایک خاص طرح کی روشنی دیکھتا ہوں اور خاص طرح کی آواز سنتا ہوں مجھے ڈر ہے نہ جانے یہ کیسا جنون کا معاملہ ہے "
اس پر سیدہ خدیجہ نے آپ کی ڈھارس بندھائی ۔ ویسے ہی کہ جیسے ایک محبت کرنے والی بیوی حوصلہ دیتی ہے ۔ سیدہ نے فرمایا :
" اے ابن عبداللہ ! اللہ رب العزت آپ کے ساتھ کبھی بھی کچھ ایسا ویسا نہیں کرے گا "
پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور ان کو تمام تر واقعات سے آگاہ کیا تو تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ سچ ہے تو یہ وہی آوازیں ہیں ، اور وہی ناموسِ موسی کی مانند ہی کوئی ناموس ہے اور اگر وہ نبی بنائے گئے تو ان کی مدد و نصرت کروں گا اور ان پر ایمان لے کے آؤں گا ۔ ناموس کہ رازدار کو کہتے ہیں اور جبرائیل کا لقب بھی ہے ۔
بعثت سے پہلے ایک اور معاملہ تسلسل سے پیش آیا کہ آپ خواب دیکھتے اور اس کی تعبیر یوں ظاہر ہوتی جیسے کوئی صبح روشن ہو یا جیسے کوئی سراج منیر ہو کہ چمکے اور آنکھیں جھٹلا نہ سکیں ۔
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ:
" آپ پر نزول وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت ہوئی کہ آپ جب بھی کوئی خواب دیکھتے تو اس کی تعبیر بالکل اسی صورت میں سامنے آ جاتی "
یہی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
"میں سویا ہوا تھا کہ جبرائیل میرے پاس دیباج کے ایک ٹکڑے میں لپٹی کتاب لے کر آئے اور کہا :
"پڑھیے"
میں نے کہا :
"مجھے تو پڑھنا نہیں آتا"
اس پر جبرائیل نے مجھے اتنے زور سے دبایا کہ مجھے گمان ہوا کہ اب میری موت قریب ہے اور پھر مجھے چھوڑ دیا "
اب دیکھیے کہ یہ وہی واقعہ ہے جو آنے والے دنوں میں جبرائیل کی حرا میں آمد کی صورت میں پیش آنا تھا اور آپ اس کو بصورت خواب دیکھ چکے تھے۔دراصل یہ رب عظیم کی طرف سے اہتمام تھا اس منصب کے لیے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنے کا کہ جو تا قیام قیامت انسانیت کی فلاح واسطے آپ کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
سو پتھروں کے سلام سے آسمانوں سے جنات پر آگ برسنے تک سب کچھ عجیب تھا تو جن پر بیت رہا تھا ان کی کیفیت کیونکر نہ بدل جاتی ۔۔۔۔ سو وہ اب غار کو جانے لگے اور کچھ تنہائی پسند سے ہو گئے تھے ۔
جنہاں عشق ہڈی رچیا
او رہندے چپ چپیندے ہو
آپ غار حرا میں جاتے اور پہروں وہاں تنہائیوں کو دوست بنائے غور وفکر کی منزلیں طے کرتے ۔حرا کا غار جبل نور میں موجود ہے کہ جہاں سے خانہ کعبہ سیدھا نظر آتا تھا ، قریب تین میل کی دوری پر واقع اس غار میں آپ کئی کئی راتیں تنہا اپنے رب کو یاد کرتے ۔ جب کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تو آپ گھر کو آتے ۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال غار حرا میں ایک مہینہ عبادت کے لیے جایا کرتے ۔ مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاتے ۔ امام ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ
"جب واپس آتے تو بیت اللہ کا طواف کر کے گھر تشریف لاتے یوں تنہا عبادت کرنا اور خود کو ماحول سے الگ کر لینا گویا اعتکاف کی صورت بنا لینا اس دور میں قریش کے نیک اور شریف اور عبادت گزار لوگوں کا معمول تھا۔"
مورخین نے اس پر بحث کی ہے کہ یہ طریقہ عبادت کس شریعت کے مطابق تھا کہ ظاہر سی بات ہے تب موسی و عیسی کی شریعت تو محفوظ نہ تھی اور اہل مکہ اس پر عامل بھی نہیں تھے ۔ ان کے عقائد بگڑ چکے تھے لیکن خود کو شریعت ابراہیم سے منسوب کرتے تھے اس لیے اہل علم کا اس پر اس حوالے سے یہی رجحان ہے کہ آپ دین ابراہیمی کے مطابق اللہ کو یاد کرتے ، تنہائی میں اس کی طرف لو لگاتے اور پاکیزگی و روح کی طہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ۔
ویسا ہی ایک روز تھا کہ آپ حرا میں موجود تھے ۔۔۔۔۔
🌹 صلی اللہ علیہ وسلم 🌹
→ واپس صفحۂ اول
تحریر
تاریخ · قسط 13
تاریخ · قسط 11
مضمون · تاریخ
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۲

متعلقہ تحریریں
تحریر
غار حرا ۔۔۔ ورقہ بن نوفل اور غامدی صاحب کا انکار
تواتر کو جی جان سے لگاتے لگاتے امت کے ایک تواتر بھرے یقین کو بنا دلیل ہی ٹھکرا دیا ۔ غامدی صاحب نے اس تمام معاملے کا انکار اس بنا پر کیا کہ "ان کی فہم" کے مطابق…
ابوبکر قدوسی
27
تاریخ · قسط 13
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۳
🌹جبرائیل آتے ہیں 🌹 اس روز بھی آپ غار حرا میں موجود تھے کہ نگاہ اٹھائی تو سامنے وہی ناموس موسیٰ تھے ۔ انجیل کی کتاب اعمال میں لکھا ہے کہ موسی علیہ السلام جب چالی…
ابوبکر قدوسی
25
تاریخ · قسط 11
حضور آپ سا کوئی نہیں ۔۔۔ قسط۱۱
بعثت نبوی سے کچھ پہلے ۔۔۔اول۔۔۔۔۔ رحمت کی برسات ہونے سے پہلے ٹھنڈی مہربان پُرْوا یوں چلنا شروع ہوئی کہ روح تک میں سکینت اتر آئی ۔ اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہ…
ابوبکر قدوسی
21

تبصرے (0)
پہلا تبصرہ آپ کیجیے۔