سیدنا اسماعیل علیہ السلام بنو جرہم کے قبیلے کے افراد کے ساتھ ہی جب پلے بڑھے تو اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ عربی زبان و بیان کے ماہر ہو گئے ۔ انبیاء علیہم السلام کی صفات کے مؤجب آپ بھی اعلیٰ ترین صفات کے حامل تھے ۔
اخلاقِ عالیہ کے ساتھ ساتھ انبیاء اپنے دور کے بھی حسین و جمیل اور باوقار ترین شخصیت ہوتے ہیں سو سیدنا اسماعیل بھی قبیلے کی آنکھ کا تارا بنے ۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو آپ کی شادی اسی قبیلے جرہم کی ایک خاتون سے ہوئی کہ جس کی طرف صحیح بخاری کی حدیث میں اشارہ ہے ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے اہلِ خانہ کی خیریت معلوم کرنے ارضِ فلسطین سے گاہے گاہے مکہ آتے ۔ اس مرحلے پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آتا ہے ، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ :
اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام مکہ میں اپنے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں۔ پھر آپ نے اسماعیل علیہ السلام کی اہلیہ سے گھریلو حالات کے متعلق پوچھا تو خاتون نے کہا کہ :
" کیا احوال پوچھتے ہیں ہم تنگ دستوں کے ، مشکل سے گزر اوقات ہوتی ہے " ۔
گویا خاتون نے اپنے حالات بارے سخت شکوہ کیا ، اس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ :
" جب آپ کے شوہر آئیں تو ان سے میرا سلام کہیے اور یہ بھی کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ "
خاتون اس مبہم اشارے کو نہ سمجھیں ۔ جب اسماعیل علیہ السلام واپس تشریف لائے تو انہوں نے جیسے
ماحول میں گندھی ہوئی محبت کی خوشبو محسوس کی تو دریافت فرمایا :
" کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ "
ان کی بیوی نے بتایا کہ :
" ہاں ایک بزرگ اس حلیے کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، سو میں نے انہیں آپ کی مصروفیت کا بتایا ، پھر انہوں نے احوالِ زندگی پوچھے تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے " ۔
اس پر اسماعیل علیہ السلام نے دریافت کیا کہ انہوں نے آپ کوکچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ۔
آپ کی اہلیہ نے کہا کہ:
"ہاں ! انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہوں اور یہ بھی کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ "
یہ سب ماجرا سن کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا :
" وہ میرے والد مکرم تھے ، اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تم کو خود سے جدا کر دوں "
اسماعیل علیہ السلام نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی میں ایک دوسری معزز خاتون سے آپ نے شادی کر لی کہ جو جرہم کے سردار مضاض کی بیٹی تھیں ۔ اب اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پھر کچھ عرصے کے بعد تشریف لائے تو اس بار بھی اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر پر موجود نہیں تھے اور کہیں دور نکلے ہوئے تھے ۔ آپ نے ان سے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاش رزق میں گھر سے دور ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام نے احوال پوچھے تو انہوں نے بتایا کہ :
" ہمارا حال بہت اچھا ہے ، بڑی فراخی ہے "
اور ساتھ ساتھ خاتون نے ان نعمتوں کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی۔ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ :
" تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ "
انہوں نے بتایا کہ " گوشت ! " ۔
آپ نے دریافت کیا کہ " پیتے کیا ہو؟ "
بتایا کہ " پانی! "
اس پر ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کی :
" اے اللہ ! ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما "
رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کہ :
" ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے "
ابراہیم علیہ السلام نے رخصت ہوتے وقت فرمایا کہ :
جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔"
جب اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ :
" جی ہاں ایک بزرگ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے۔ اور پھر سب سوال اور جواب ان کے گوش گزار کئے ۔ اس پر اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ :
" کیا انہوں نے تمہیں کوئی نصیحت بھی کی تھی؟ "
انہوں نے کہا :
" جی ہاں، انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ "
اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ :
" یہ بزرگ میرے والد تھے، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں " ۔
سیدنا اسماعیل کی زندگی کا ایک اور سب سے اہم واقعہ بیت اللہ کی تعمیر ہے ۔ آپ پڑھ چکے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب سیدہ حاجرہ کو اس بیابان میں چھوڑا تھا تو ایک ابھر ہوا ٹیلہ اس وادی کے بیچ میں موجود تھا ۔
ایک بار ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں ( جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے ) اپنے تیر بنارہے ہیں ۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو بے اختیار محبت سے ان کی طرف گئے اور باپ بیٹے کی محبت و ملاقات کا منظر دیکھ کر ہر سو بہار اتر آئی ۔
صحیح بخاری کی روایت میں اس ملاقات کا احوال ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ :
" وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلًا لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ، فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ، فَصَنَعَا كَمَا يَصْنَعُ الوَالِدُ بِالوَلَدِ وَالوَلَدُ بِالوَالِدِ "
اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں ( جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے ) اپنے تیر بنارہے ہیں ۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہوگے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا ۔
باپ بیٹے کی ملاقات کی اس بلیغ منظر کشی کو کبھی یعقوب و یوسف کی ملاقات میں جا دیکھیئے کہ ابھی یوسف کی قمیض مصر کی راہوں تھی کہ کنعان میں یعقوب کہہ اٹھے کہ انہیں یوسف کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔ اور یوسف کو بچھڑے برسوں بیت چکے تھے ۔۔
پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :
"اسماعیل ! اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے ۔"
اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا :
"آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں "
انہوں نے فرمایا :
" اسماعیل ! کیا آپ بھی میری مدد کر پائیں گے ؟ "
اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ " جی ضرور آپ جیسا کہیں گے سو ویسے ہی آپ کی مدد کروں گا " ۔
آپ نے فرمایا کہ :
" اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناوں"
اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ :
" اس کے چاروں طرف "
رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کہ :
" ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی ۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھااٹھاکر کر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے ۔ جب دیواریں بلند ہوگئیں تو اسماعیل یہ [ مقام ابراہیم والا ] پتھر لائے اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے اسے رکھ دیا ۔ اب ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہوکر تعمیر کرنے لگے ، اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے تھے اور تعمیر ہوتی چلی گئی ۔
رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کہ :
" یہ دونوں تعمیر کرتے رہے اوربیت اللہ کے چاروں طرف گھوم گھوم کر یہ دعا پڑھتے رہے ۔
{رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ}
” اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول فرما ۔ بے شک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے “ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری 3364 .. یہ تمام واقعہ اپنی تفصیلات کے ساتھ اس حدیث میں رسول مکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔