[پچھلی ابتدائی مختصر اقساط میں ہم نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا اپنی والدہ اور والد کے ساتھ مکہ میں آنا ذکر کیا تھا اب کچھ ذکر عالم عرب کا ، یہاں کی قدیم تہذیب اور تاریخ کا]
📌 عرب ۔۔
یہ جزیرہ نما عرب ہے ، جزیرہ خشکی کے اس حصے کو کہتے ہیں کہ جو سمندروں کے بیچوں بیچ ہوتا ہے اور اس کے چاروں اطراف میں پانی ہوتا ہے جبکہ جزیرہ نما سے مراد خشکی کا ایسا قطعہ کہ جس سے تین اطراف تو سمندر ہو اور چوتھی سمت خشکی ہو جو اسے بقیہ زمینی علاقوں سے ملا دے ۔
جزیرہ نما عرب بھی تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے ، اس کے ایک طرف خلیج فارس ، دوسری طرف بحیرہ عرب اور تیسری سمت بحیرہ احمر ہے جسے بحیرہ قلزم بھی کہتے ہیں ۔جب کہ خشکی کی جانب سے شمال مغربی سمت افریقہ اور شمال مشرقی حصے یورپ کے سامنے واقع ہیں ۔ اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ افریقہ اور یورپ کی جانب سے یہ ایشیا میں داخلے کا دروازہ بھی ہے ۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے جس کا رقبہ آج کے براعظم یورپ کا ایک تہائی ہے جو تقریباً اکتیس لاکھ مربع کلومیٹر کو محیط ہے ۔ اس وقت سیاسی تقسیم کے اعتبار سے جزیرہ نما عرب کئی ریاستوں میں منقسم ہے جن میں سب سے وسیع تو سعودی عرب ہے ۔ اس کے علاوہ یمن ، عمان ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، قطر ، اور بحرین اس میں شامل ہیں ۔۔
عرب کے لیے جزیرہ کی اصطلاح قدیم ہے جو رسول مکرم ﷺ کی احادیث میں بھی ملتی ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی یہ روایت ہے:
أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،
مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو
بخاری 3053
📌 سد مآرب ۔۔
جزیرہ نما عرب کو جب جب تصور میں لایا جائے تو لق و دق صحرا ، بے آب و گیاہ وادیوں کا ہی خیال آتا ہے لیکن ماہرین ارضیات کا ماننا ہے یہ صحرائی علاقے کبھی شادابی کا مظہر تھے اور جہاں آج ریت اڑتی ہیں وہاں زندگی رقص کرتی تھی ، جس جا خزاں کا راج ہے وہاں بہار مسکراتی تھی ۔ پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور آہستہ آہستہ موسمی تبدیلیوں کے سبب شاداب اور آباد علاقے ریگستان میں بدل گئے ۔ لیکن اس کے باوجود عرب میں بہت سے علاقے آج بھی سرسبز اور شاداب ہیں ۔ جہاں ندیاں بہتی ہیں اور پانی کے جھرنے جلترنگ بجاتے ہیں ۔ یمن کا علاقہ اسی طرح سعودی عرب کے بعض علاقے عمدہ موسم رکھتے ہیں اور وہاں اچھی خاصی زرعی سرگرمیاں ہوتی ہیں ۔ شمال مغربی پہاڑی سلسلوں اور یمن کے بعض علاقوں میں سالانہ بیس انچ تک بارش ہوتی ہے اور بارش کا پانی اپنے ساتھ زندگی کا پیغام لاتا ہے ۔ آپ نے سد مآرب کا قصہ تو پڑھا ہو گا یہ موجودہ صنعاء کے قریب واقع تھا اور اپنے دور کی انجینئرنگ کا کمال تھا ۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ آج کی جدید آبپاشی کے نظام کا نقش اولین بھی ۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً انتالیس سو فٹ بلندی پر واقع تھا جہاں اس بستی کے ماہرینِ آبپاشی نے پانی روکا اور ڈیم بنایا ۔ اسلام کے ظہور سے کچھ ہی پہلے یہ ڈیم ٹوٹ گیا اور ان کی بستی برباد ہو گئی ، جس کا ذکر سورہ نسا میں آیا ہے امام ابن کثیر کا لکھنا ہے کہ 800 قبل مسیح یہ بند بنایا گیا ، جس کے بیس دروازے تھے اور تقریباً تین میل میں پھیلا ہوا تھا ۔ اور جب یہ بند ٹوٹا تو ان کا نظام آبپاشی مکمل طور پر برباد ہو گیا ۔ جہاں کھیت کھلیان تھے وہاں محض جھاڑ جھنکار باقی رہ گئے اور وہ مکمل معاشی تباہی کا شکار ہو گئے ۔ امتداد زمانہ سے اس کے آثار تقریباً مٹ چکے البتہ ایک دیوار ابھی بھی باقی ہے ۔
جزیرہ نما عرب کا باقی اور بیشتر حصہ لق و دق صحرا پر مشتمل ہے جہاں زندگی کی رعنائیوں کا حصول بہت مشقتوں کے بعد ہوتا ہے ۔ بارشیں کم کم ہوتی ہیں اور پانی عموماً کم یاب رہتا ہے ، زندگی صحراؤں کے بیچ میں نخلستانوں کی تلاش و طواف میں گزرتی ہے ۔ اور جہاں پانی ملتا ہے وہاں زندگی ٹھہر جاتی ہے ۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے ! کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
📌 ربع الخالی ۔۔۔ عرب کا جنوبی حصہ ربع الخالی صحرا پر مشتمل ہے یہ دنیا کے بڑے صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے کہ جو ساڑھے چھے لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ۔ اس کا بڑا حصّہ سعودی عرب میں اور کچھ بقیہ یمن ، امارات اور عمان میں پھیلا ہوا ہے ۔ انسانوں سے خالی یہ وسیع خطہ شدید گرم موسم رکھتا ہے ، جہاں انسان کم اور تیل زیادہ پایا جاتا ہے ۔ یہاں ریت کے طوفان مسلسل آتے ہیں کہ جن کے بگولوں کی اونچائی سینکڑوں میٹر تک بلند ہو جاتی ہے ۔ اس صحرا کی وسعتوں میں اگر کوئی کھو جائے تو اس کا واپس آنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے ۔یہ ایسا خشک ہے کہ اس کے بعض حصوں میں سال بھر میں بارش محض چند ملی میٹر ہوتی ہے گویا اس کے نصیب کی بارشیں بھی کبھی اسے دستیاب نہیں ہوتیں ۔ پانی کی ایسی کمیابی ہے کہ ایک کنویں سے دوسرے کا فاصلہ بسااوقات سو میل تک ہوتا ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ ازل سے خالی تھا بلکہ اس میں کبھی آبادیاں تھیں کہ جو اب تاریخ کی کتابوں میں دفن ہیں ۔ اس میں ارم ذات العماد ، ہزار ستونوں پر قائم شہر تھا کہ جو مغضوب ہوا ۔ قوم عاد کا یہ مرکزی شہر تھا جو طوفان نوح کے بعد آباد ہؤا اور سیدنا ہود علیہ السلام اس کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ۔ پھر اس شہر کے باشندوں کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آیا ، اور زندگی کے سب رنگ صحراؤں کی وسعتوں میں کھو گئے ۔ کچھ عرصہ پہلے البتہ اس شہر کے آثار دریافت ہوئے اور جو قصہ [ بعض حلقوں میں ] محض ایک تاریخی کہانی سمجھا جاتا تھا ، وہ پایہ ثبوت کو پہنچا ۔
📌۔۔صحرائے النفود
جزیرہ نما عرب کا دوسرا بڑا صحرا ہے جو عرب کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے ۔ ربع الخالی اور النفود کے درمیان نجد کا علاقہ ہے ۔ نفود میں ایک وسیع و عریض صحرا ہے جب کہ کچھ چھوٹے چھوٹے صحرائی علاقے اس میں بکھرے ہوئے ہیں جو کسی نہ کسی نام سے موسوم ہیں ۔ سردیوں میں یہاں بارشیں ہو جاتی ہیں جس کے سبب نباتات کی بہتات ہو جاتی ہے اور نخلستان نمو پاتے ہیں ۔
📌 ۔ صحرائے دھناء
صحرائے النفود کے شمال مشرقی حصے سے لے کر ربع الخالی کے مغربی حصے تک پھیلا ہوا یہ صحرائے الدھناء ہے کہ جو بنیادی طور پر طویل صحرائی پٹی کہا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے ایک طرف نجد کا علاقہ ساتھ ساتھ چلتا ہے اور دوسری جانب بحرین ، اور پھر آگے عراقی علاقے شروع ہو جاتے ہیں ۔
📌 صحرائے شام
یہ سعودی عرب کے شمالی علاقوں سے مغربی عراق ، شرق اردن اور شام کے بعض علاقوں پر محیط ہے اور پرانے زمانے کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ رہا ہے ۔ سیدنا خالد بن ولید کا مشہور صحرائی سفر کہ جو اپنی سرعت کے سبب ایک تاریخی واقعہ ہے اسی صحرا کو عبور کرنا تھا ، آپ نے صرف پانچ دن میں صحرائے شام عبور کیا تھا تاکہ شام میں موجود اسلامی لشکر سے جا ملیں ۔ اسی صحرا میں وادی سرحان ایک تاریخی علاقہ ہے جو وادی اردن سے شروع ہوتا ہے اور سعودی عرب کے صحرائی علاقے میں دو سو کیلومیٹر تک نکل جاتا ہے ۔ حجاز کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ یہی وادی تھی ۔ یہاں چونکہ پانی دستیاب ہے ، اس سبب فصلیں بھی ہوتی ہیں ۔